ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیٹ نتائج کیخلاف احتجاج اور جانچ کے مطالبہ میں شدت، 4 رُکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

نیٹ نتائج کیخلاف احتجاج اور جانچ کے مطالبہ میں شدت، 4 رُکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

Sun, 09 Jun 2024 11:02:10    S.O. News Service

نئی دہلی، 9/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) میڈیکل کورسیز میں  داخلہ کیلئے کل ہند امتحان ’این ای ای ٹی -یو جی‘ (نیٹ) کے نتائج   کے خلاف احتجاج اور جانچ کے مطالبہ میں ہر گزرتے لمحے شدت آتی جارہی ہے۔   سنیچر کو کانگریس کی طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی‘ نے اس  نیٹ کے نتائج میں بے ضابطگیوں کیخلاف پرزور احتجاج کیا جبکہ آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم ’اے بی وی پی‘ نے بھی بے ضابطگیوں کے الزام کی سی بی آئی سے جانچ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُدھر امتحان  منعقد کرانے والے ادارہ ’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘ نے  ۴؍ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ کمیٹی  ۱۵۰۰؍ سے زائد طلبہ کو وقت ضائع ہو جانے کے بدلے دیئے گئے ’اضافی مارکس (گریس مارکس)کی جانچ کریگی۔ 

 این ٹی اے نے کسی بھی طرح کی بے ضابطگی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ این سی ای آر ٹی کی کے نصاب میں تبدیلی  امتحان گاہ میں وقت ضائع ہونے کے عوض دیئے گئے گریس مارکس  طلبہ کے بہت زیادہ مارکس حاصل کرنے کی وجہ ہے۔ 

 کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ  پیش کرے گی۔ سنیچر کو نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں  این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل سبودھ سنگھ  کے ساتھ   محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سیکریٹری کے  سنجے مورتی اوراور وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری  بھی موجود تھے۔سبودھ سنگھ  نےاعلان کیا کہ ’’ جن امیدواروں کو گریس  مارکس دیئے گئے ہیں ان کے نتائج میں ترمیم کی جا سکتی ہے اور اس سے داخلہ کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘ انہوں  نے بتایاکہ کمیٹی نے اس معاملے پر میٹنگ کی اور امتحانی مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ اس دوران کچھ مراکز پر وقت ضائع کیا گیا اور طلبہ کو اس کی تلافی کی جانی چاہیے۔انہوں نے   بتایا کہ نیٹ  میں تقریباً ۲۴؍ لاکھ طلباء نے شرکت کی  لیکن ۱۶۰۰؍ طلبہ کو ہی اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس امتحان کی دیانتداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے انہوں نے  پیپر لیک ہونے کی خبروں کی بھی تردید کی ۔  

ٍ بہرحال اس معاملے میں مودی حکومت کو اپوزیشن نےکٹہرے میں کھڑا کردیا ہے اور  تنازع کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کی مانگ کی ہے۔  جمعہ کو سب سے پہلے کانگریس نے یہ معاملہ اٹھایا جس کی تائید سنیچر کو سماجوادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے بھی کی ۔ 


Share: